Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 12:73 hingga 12:76
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
لَقَدْ
عَلِمْتُمْ
مَّا
جِئْنَا
لِنُفْسِدَ
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
كُنَّا
سٰرِقِیْنَ
۟
قَالُوْا
فَمَا
جَزَآؤُهٗۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
كٰذِبِیْنَ
۟
قَالُوْا
جَزَآؤُهٗ
مَنْ
وُّجِدَ
فِیْ
رَحْلِهٖ
فَهُوَ
جَزَآؤُهٗ ؕ
كَذٰلِكَ
نَجْزِی
الظّٰلِمِیْنَ
۟
فَبَدَاَ
بِاَوْعِیَتِهِمْ
قَبْلَ
وِعَآءِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اسْتَخْرَجَهَا
مِنْ
وِّعَآءِ
اَخِیْهِ ؕ
كَذٰلِكَ
كِدْنَا
لِیُوْسُفَ ؕ
مَا
كَانَ
لِیَاْخُذَ
اَخَاهُ
فِیْ
دِیْنِ
الْمَلِكِ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
اللّٰهُ ؕ
نَرْفَعُ
دَرَجٰتٍ
مَّنْ
نَّشَآءُ ؕ
وَفَوْقَ
كُلِّ
ذِیْ
عِلْمٍ
عَلِیْمٌ
۟
3

اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔