Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 12:78 hingga 12:79
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
اِنَّ
لَهٗۤ
اَبًا
شَیْخًا
كَبِیْرًا
فَخُذْ
اَحَدَنَا
مَكَانَهٗ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اَنْ
نَّاْخُذَ
اِلَّا
مَنْ
وَّجَدْنَا
مَتَاعَنَا
عِنْدَهٗۤ ۙ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّظٰلِمُوْنَ
۟۠
3

جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔