Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 21:107 hingga 21:112
وَمَاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
اِلَّا
رَحْمَةً
لِّلْعٰلَمِیْنَ
۟
قُلْ
اِنَّمَا
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ
اَنَّمَاۤ
اِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ
وَّاحِدٌ ۚ
فَهَلْ
اَنْتُمْ
مُّسْلِمُوْنَ
۟
فَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَقُلْ
اٰذَنْتُكُمْ
عَلٰی
سَوَآءٍ ؕ
وَاِنْ
اَدْرِیْۤ
اَقَرِیْبٌ
اَمْ
بَعِیْدٌ
مَّا
تُوْعَدُوْنَ
۟
اِنَّهٗ
یَعْلَمُ
الْجَهْرَ
مِنَ
الْقَوْلِ
وَیَعْلَمُ
مَا
تَكْتُمُوْنَ
۟
وَاِنْ
اَدْرِیْ
لَعَلَّهٗ
فِتْنَةٌ
لَّكُمْ
وَمَتَاعٌ
اِلٰی
حِیْنٍ
۟
قٰلَ
رَبِّ
احْكُمْ
بِالْحَقِّ ؕ
وَرَبُّنَا
الرَّحْمٰنُ
الْمُسْتَعَانُ
عَلٰی
مَا
تَصِفُوْنَ
۟۠
3

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے۔ ان کے ذریعہ خدا یہ چاہتا تھا کہ انسانوں کو حقیقت کا وہ علم دے جس کو اختیار کرکے وہ ابدی جنت کے باشندے بن سکتے ہیں۔ مگر انسان ہر بار پیغمبروں کو رد کرتا رہا۔

اس اعتبار سے تمام پیغمبر خدا کی رحمت تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی عنایت کا ذریعہ بنایا۔ خدا نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ہدایت کے اس دروازے کو ہمیشہ کے لیے کھول دے جو اب تک ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ اس بنا پر آپ کی مدعو قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی فیصلہ تھا کہ اس کو بہر حال حق کے راستے پر لانا ہے۔ تاکہ پیغمبر کے ساتھ ایک طاقت ور جماعت تیار ہو اور وہ دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کے رخ کو موڑ دے۔ رحمت خداوندی کا یہ خصوصی منصوبہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ بہ تمام وکمال انجام پایا۔