Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 22:1 hingga 22:2
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
اتَّقُوْا
رَبَّكُمْ ۚ
اِنَّ
زَلْزَلَةَ
السَّاعَةِ
شَیْءٌ
عَظِیْمٌ
۟
یَوْمَ
تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ
كُلُّ
مُرْضِعَةٍ
عَمَّاۤ
اَرْضَعَتْ
وَتَضَعُ
كُلُّ
ذَاتِ
حَمْلٍ
حَمْلَهَا
وَتَرَی
النَّاسَ
سُكٰرٰی
وَمَا
هُمْ
بِسُكٰرٰی
وَلٰكِنَّ
عَذَابَ
اللّٰهِ
شَدِیْدٌ
۟
3

درس نمبر 144 تشریح آیات

1……تا……24

یایھا الناس ……شدید (2)

الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “

اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ

ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک !

ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔

ومن الناس ……السعیر (4)

” بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ، حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “

اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔

کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔

ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔

کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟

لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔

درس نمبر 144 تشریح آیات

1……تا……24

یایھا الناس ……شدید (2)

الفاظ کی شوکت کے ساتھ یہ ایک خوفناک آغاز کلام ہے ، انسان اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ دل کا نپنے لگتا ہے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے زور دار آواز میں کہا جاتا ہے۔ ” لوگو “ ! ! یایھا الناس ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو۔ “ اتقوا ربکم ۔ ” کس دن سے تمہیں ہم ڈراتے ہیں۔ “ ان زلزلۃ الساعۃ شی عظیم (22 : 1) ” قیامت کا زلزلہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ “ اس زلزلے اور اس عظیم اور ہولناک چیز کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں ، اس سے اس کی خوفناکی اور بڑھ جاتی ہے۔ زلزلہ ہے ! عظیم ہے ! خوفناک ہے ! اسے الفاظ میں بیان ہی نہیں جاسکتا۔ بس اس سے ڈرو ” جس طرح ایک شخص پہلے بھاگو بھاگو کہنے کے بعد وجہ بتاتا ہے۔ “

اور بعد میں جو تفصیلات مختصر سی بتائی جاتی ہیں تو ان سے اس زلزلے کی خوفناکی میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسا منظر جس میں دودھ پلانے والیاں بچوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی ہیں اور انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ سوجھتا ہے ، دوڑ ہی دوڑ ہے۔ اس خوفناکی اور دوڑ میں تمام حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں ، کوئی ادھر پڑی ہے کوئی ادھر اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مدہوش نظرآتے ہیں لیکن دراصل وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ ان کی خوابیدہ نظریں اور ڈگمگاتے قدم نشہ بتاتے ہیں لیکن ہیں وہ پریشان۔ یہ منظر حرکت اور افراتفری سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کی موجیں ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہیں لیکن پتہ نہیں کہ کیوں انسانوں کا سیلاب ہے۔ انسانی سوچ قرآنی انداز بیان کے اس منظر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور تخلیل کی آنکھ انسانوں کے اس متلاطم سیلاب کے آخری حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اس قدر ہولناک منظر ہے کہ اس کے حجم اور ضخامت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت آگ میں بھی اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے لیکن یہ کیا عظیم ہولناک منظرہو گا کہ عورتیں بچوں کو سینے سے اٹھا کر پرے پھینک دیں گی اور تمام حاملہ عورتیں حمل گرا دیں گی اور لوگ مدہوشی کی حالت میں ہوں گے۔ اصل بات یہ یہ کہ

ولکن عذاب اللہ شدید (22 : 2) ” اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ اس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جبکہ وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں … یہ ہے آغاز سورة زلزلہ انگیز اور خوفناک !

ایسے مناظر کے ہوتے ہوئے بھی بعض لوگ ایسے سنگدل ہیں کہ وہ اللہ کے بارے میں بےتکی باتیں کرتے ہیں اور اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔