Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 22:3 hingga 22:4
وَمِنَ
النَّاسِ
مَنْ
یُّجَادِلُ
فِی
اللّٰهِ
بِغَیْرِ
عِلْمٍ
وَّیَتَّبِعُ
كُلَّ
شَیْطٰنٍ
مَّرِیْدٍ
۟ۙ
كُتِبَ
عَلَیْهِ
اَنَّهٗ
مَنْ
تَوَلَّاهُ
فَاَنَّهٗ
یُضِلُّهٗ
وَیَهْدِیْهِ
اِلٰی
عَذَابِ
السَّعِیْرِ
۟
3

ومن الناس ……السعیر (4)

اللہ کے بارے میں بحث ! خواہ اللہ کے وجود کے بارے میں ہو ، اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ہو ، اللہ کی قدرت کے بارے میں ہو ، اللہ کے علم کے بارے میں ہو ، اللہ کی صفات میں سے کسی صفت کے بارے میں ہو ، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان نے کن خوفناک مناظر سے دوچار ہونا ہے اور کن ہولناک مقامات سے گزرنا ہے ، کسی عقلمند آدمی کی جانب سے یہ بحث عجیب اور جسورانہ نظر آتی ہے ، یہ منظر ایک خاطی اور پر تقصیرات بندے کو ہلاک کر رکھ دیتا ہے۔

کاش کہ اللہ کے بارے میں بات کرنے الے علم معرفت اور یقین کی بات کرتے اور علی وجہ البصیرت کرتے ، لیکن وہ تو بغیر علم کے اپنے حدود سے بڑھ رہے ہیں اور یہ بحث وجدال شیطان مردود کی اطاعت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسانوں میں ہر وقت ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات نفس کے اتباع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔

ویتبع کل شیطن مرید (22 : 3) ” اور وہ ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ “ جو نافرمان ، مخالف حق اور متکبر ہے۔

کتب علیہ انہ من تولاہ فانہ یضلہ ویھدیہ الی عذاب السعیر (22 : 3) ” حالانک ہ اس کے تو نصیب میں لکھا ہے کہ جو اسے دوست بنائے گا اسے گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ “ تو اس کی دوستی کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوست کو جہنم رسید کر دے گا۔ آخر کوئی عقلمند شخص دیکھتے اور بوجھتے ہوئے ایسے شخص سے دوستی کیوں کرتا ہے اور اس سے ہدایات کیوں لیتا ہے ؟

لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بعث بعد الموت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر قیامت کے زلزلے میں بھی انہیں شک ہے۔ اگر ان کو انسان کے دوبارہ زندہ کئے جانے میں شک ہے تو انسان کی موجودہ زندگی اور خود اپنی زندگی کی نشو و نما کے نظام ہی کو دیکھ لیں۔ اور اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ان کو بیشمار دلائل قیامت ملیں گے۔ لیکن لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر سے غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔