Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 22:5 hingga 22:6
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
اِنْ
كُنْتُمْ
فِیْ
رَیْبٍ
مِّنَ
الْبَعْثِ
فَاِنَّا
خَلَقْنٰكُمْ
مِّنْ
تُرَابٍ
ثُمَّ
مِنْ
نُّطْفَةٍ
ثُمَّ
مِنْ
عَلَقَةٍ
ثُمَّ
مِنْ
مُّضْغَةٍ
مُّخَلَّقَةٍ
وَّغَیْرِ
مُخَلَّقَةٍ
لِّنُبَیِّنَ
لَكُمْ ؕ
وَنُقِرُّ
فِی
الْاَرْحَامِ
مَا
نَشَآءُ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
مُّسَمًّی
ثُمَّ
نُخْرِجُكُمْ
طِفْلًا
ثُمَّ
لِتَبْلُغُوْۤا
اَشُدَّكُمْ ۚ
وَمِنْكُمْ
مَّنْ
یُّتَوَفّٰی
وَمِنْكُمْ
مَّنْ
یُّرَدُّ
اِلٰۤی
اَرْذَلِ
الْعُمُرِ
لِكَیْلَا
یَعْلَمَ
مِنْ
بَعْدِ
عِلْمٍ
شَیْـًٔا ؕ
وَتَرَی
الْاَرْضَ
هَامِدَةً
فَاِذَاۤ
اَنْزَلْنَا
عَلَیْهَا
الْمَآءَ
اهْتَزَّتْ
وَرَبَتْ
وَاَنْۢبَتَتْ
مِنْ
كُلِّ
زَوْجٍ
بَهِیْجٍ
۟
ذٰلِكَ
بِاَنَّ
اللّٰهَ
هُوَ
الْحَقُّ
وَاَنَّهٗ
یُحْیِ
الْمَوْتٰی
وَاَنَّهٗ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟ۙ
3

یایھا الناس ……زوج بھیج (5)

بعث بعد موت کی حقیقت کیا ہے۔ جسم کے اجزاء میں دوبارہ زندگی ڈالنا اور بس۔ تو انسانی سوچ کے مطابق بھی یہ چیز ابتدائی تخلیق سے آسان ہے ، لیکن اگر انسان اسے مشکل سمجھے تو اللہ کی نسبت سے تو یہ بہت ہی آسان ہے۔ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ دوبارہپیدا کرنے میں بھی اللہ کو ایسا ہی ارادہ کرنا ہوگا کہ (کن) یعنی ہوجا کے تو وہ چیز ہوجائے گی۔

انما امرہ اذا ارادشیئا ان یقول لہ کن فیکون ” اس کا کام یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے “ ۔ قرآن کریم کا اندازہ کلام یہ ہے کہ وہ انسانوں کی سوچ اور قیاس کے مطابق ہی بات کرتا ہے۔ لوگوں کے طرز استدلال اور ان کی قوت ادراک کے مطابق بات کرتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پھیلی ہوئی اور نظر آنے والی کائنات پر غور کریں۔ یہ ہر وقت ان مشہور اور نظر آنے والے واقعات کو دیکھتے رہیں جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں۔ اگر ان نظروں کے سامنے سے روز و شب گزرنے والے واقعات پر گہرا غور و فکر کیا جائے تو وہ سب واقعات انسان کو ایع معجزہ نظرآنے لگیں۔ بشرطیکہ وہ کھلے دل اور چشم بینا کے ساتھ ان کا گہرا مطالعہ کریں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ ان واقعات اور مناظر پر سے گونگے اور بہرے ہو کر گزرتے ہیں یا یہ واقعات اور مناظر لوگوں کے پاس ہو کر گزر جاتے ہیں اور لوگوں کو کوئی انتباہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے اور سب سے بڑا سوال کہ خود انسان کیا ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرح آیا ہے اور وہ کن کن ادوار سے گزرا ہے۔

فانا خلقنکم من تراب (22 : 5) ” ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “ انسان اس مٹی کا بیٹا ہے۔ اس مٹی سے وہ بنا ہے ، اس کا یہ جسم اسی مٹی سے ڈھالا گیا ہے ، مٹی ہی سے اس کی زنگدی کی نشو و نما ہوتی ہے۔ اس کے جسم میں جس قدر عناصر ہیں وہ زمین کے اندر موجود ہیں۔ صرف وہ ایک عنصر مٹی میں نہیں ہے یعنی ” حیات “ یعنی روح۔ یہ امر ربی سے ہے اور اس کے بارے میں ہمارا علم ابھی تک قلیل ہے۔ اس روح ہی کی وجہ سے یہ مٹی سے جدا ہوگیا ہے لیکن اصلاً ہے تو مٹی ہی ہے۔ اس کس جسمانی ساخت ، اس کی غذا اور تمام اجزائے جسم مٹی ہی سے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مٹی میں اور انسان میں پھر یہ فرق کس طرح ہوگیا۔ مٹی کہاں اور انسان کہاں ؟ مٹی تو سادہ ذرات ہیں لیکن انسان تو تخلیق کے بعد (فسواھا) بھی ہے۔ یہ انسان فاعل بھی ہے اور فعالیت کا اثر بھی لیتا ہے۔ مئوثر بھی ہے اور متاثر بھی ہے۔ اس کے قدم زمین پر ہیں اور اس کی اڑان آسمانوں کی طرف ہے۔ وہ اپنی فکر سے مادہ سے آگے تخلیقات کرتا ہے۔ مادہ کے اندر بھی اس کی تخلیقات ہیں۔

کیا یہ ایک عظیم معجزہ اور عظیم انقلاب نہیں ہے کہ اللہ نے مٹی سے انسان بنا دیا۔ اسی انسانی مادے کو دوبارہ جمع کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ عجیب مخلوق مادہ سے پیدا کردہ۔

ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ مخلقۃ لنبین لکم و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً (22 : 5) ’ پھر نطفے سے ، پھر خلیہ سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “

اب ذرا مٹی کے ان سادہ عناصر کو دیکھیے۔ پھر نطفے کو دیکھے جو زندہ مٹی کے خلیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ کس قدر تبدیلی آگئی۔ اسی کے اندر وہ عظیم راز مضمر ہے یعنی زندگی کا راز۔ وہ راز جس کے بارے میں آج تک انسان کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہیں کرسکا۔ اربوں سال گزر گئے ہیں۔ انسان یہ معلوم کرنے کی سعی میں ہے کہ روج کیا ہے ؟ حیات کیا ہے ؟ ان اربوں سالوں کے دوران ہر نطفے میں اربوں زندہ خلیے بنتے ہیں لیکن ان خلیوں کے ملاحظے سے بھی ہم عاجز ہیں چہ جائیکہ ہم ان کی تخلیق کو سمجھ سکیں اگرچہ انسان نظر کو بلند کرے اور محالات کے دامن کو پکڑ لے۔

پھر یہ نطفہ علقہ کس طرح بن جاتا ہے ، یہ خون کے لوتھڑے کی شکل کس طرح اختیار کرت ا ہے۔ اس کے بعد یہ خون بوٹی کی شکل میں کس طرح آتا ہے اور یہ بوٹی انسان کی شکل کس طرح اختیار کرتی ہے۔ نطفہ کیا ہے ، مرد کا پانی۔ ایک نطفے میں ہزارہا مادہ منویہ کے حیوانات ہوتے ہیں۔ ان ہزاروں لاکھوں حیوانات میں سے صرف ایک حیوان عورت کے انڈے میں داخل ہوتا ہے جو رحم مادر میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور رحم کید یوار کے ساتھ لٹک جاتا ہے۔ اس بیضہ میں جو نہایت ہی باریک نکتے کے برابر ہوتا ہے اور جو رحم مادر کی دیواروں کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔ مادہ منویہ میں دوڑنیوالا یہ باریک حیوان پیوست ہوجاتا ہے بلکہ اس بیضہ کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کام ایک خود کار نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ ان دونوں چیزوں میں قبولیت اللہ نے رکھی ہے۔ اس نکتے میں اللہ نے تمام انسانیخصائل اور عادات ودیعت کئے ہوئے ہیں۔ آنے والے انسان کی تمام خصوصیات کہ اس کا وزن کیا ہوگا ، لمباکتنا ہوگا ، جسامت کتنی ہوگی ، موٹاپا کتنا ہوگا ، خوبصورت ہوگا یا بدصورت ، صحت مند ہوگا یا بمیار۔ اسی کے اندر انسان کی اعصابی خصوصیات ، عقلی صلاحیتیں اور نفسیاتی حالات ودیعت کردیئے جاتے ہیں۔ اس کے میلانات ، جذبات ، رجحان ، اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف اس چھوٹے سے حیوان کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔

کون یہ تصور کرسکتا ہے کہ رحم مادر کے اندر معلق بیضے اور اس چھوٹے سے حیوان کے ملاپ کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اور یہی نکتہ جو خوردبین سے نظرآتا ہے اس کے اندر پورا انسان موجود ہے جس کے جسم کی ساخت ہی پیچیدہ ہے۔ اس قدر کہ دنیا میں کوئی ایک انسان بھی دوسرے کا مکمل ہم شکل نہیں ہوتا اور آدم سے لے کر آج تک کوئی بھی دو انسان مکمل طور پر ہم شکل نہیں ہوتے۔

اب یہ نکتہ حلقہ سے مضغہ بنجاتا ہے۔ یہ گاڑھے خون کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے ، اس کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ مضغہ پھر شکل اختیار کرتا ہے ، اور یہ ہڈیوں کے ہیکل کی شکل میں ہوجاتا ہے جس کے اوپر بھی گوشت چڑھتا ہے۔ اگر اس نے پیدا ہونا ہو ورنہ رحم مادر اسے باہر پھینک دیتا ہے۔ اگر اللہ نے اس کے لئے بحیثیت انسان دنیا میں آیا مقرر نہ کیا ہو۔

لنبین لکم ” تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ “ مضغہ اور طفل کے درمیان قرآن مجید جملہ معترضہ کہتا ہے تاکہ ہم تمہیں بتائیں کہ خون کے اس لوتھڑے کے اندر قدرت الہیہ نے کیا کیا کمالات رکھے ہیں۔ یہ ہے قرآن مجید کا نہایت ہی مئوثرانداز بیان۔ اس کے بعد پھر رحم مادر میں جنین کے حالات۔ ونقر فی الارحام مانشآء الی اجل مسمی (22 : 5) ” ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں۔ “ جن جنینوں کو اللہ تمام کردینا چاہتے ہیں وہ رحم مادر میں رہتے ہیں اپنے وقت وضع حمل تک ۔ ثم نخرجکم (طفلاً (22 : 5) ” پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ “ ذرا آپ نطفہ معلقہ کو دیکھیں اور طفل مولود کو دیکھیں دونوں کے درمیان کس قدر فرق ہے۔ “

اگر اس زمانے کو دیکھا جائے تو بہت ہی تھوڑا ہے صرف 9 ماہ عموماً اور اگر نطفہ معلقہ کو دیکھا جائے اور طفل مولود کو دیکھا جائے تو دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ نطفہ تو خوردبین کے بغیر نظر ہی نہیں آتا جبکہ بچہ ایک نہایت ہی پیچیدہ مکمل مخلوق کی شکل میں ہے جس کے اعضا وجوارح ہیں۔ جس کے اپنے خدو خال ہیں ، اپنی صفات اور صلاحیتیں ہیں اور جذبات و میلانات ہیں۔ یہ اس قدر بڑا فرق ہے کہ کوئی سمجھ دار ، ذی عقل اور مفکر انسان اس پر بار بار غور کئے بغیر اور قدرت الہیہ کو تسلیم کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس کے بعد قرآن مجید اس طفل مولود کے حالات کے ساتھ ذرا آگے جاتا ہے۔ یہ بچہ روشنی دیکھتا ہے اور اس پوشیدہ مقام کو چھوڑ دیتا ہے جس کے اندر اس نے یہ معجزانہ طفر طے کیا اور جہاں یہ نظروں سے اوجھل رہا ۔

ثم لتبلغوا اشد کم (22 : 5) ” پھر تمہاری پرورش کرتے ہیں تاکہ تم جوانی کو پہنچو۔ “ اور اپنی جسمانی ساخت کو مکمل کرو ، اپنی عقل بلوغت تک جا پہنچو اور نفسیاتی طور پر ترقی یافتہ انسان بنو۔ اس مقام پر یہ بات غور طلب ہے کہ ایک نومولود بچے اور ایک مکمل نوجوان اور مضبوط انسان کے درمیان کس قدر درجات ہیں۔ ان کے درمیان کتنا عظیم فاصلہ ہے۔ زمانوں کے فاصلے سے بہت بعید۔ لیکن دست قدرت نے یہ تمام فاصلے طے کرا دیئے۔ اس بچے کو دست قدرت نے تمام انسانی خواص عطا کردیئے اور رحم مادر کے ساتھ معلق نطفہ جو ایک بےقدر پانی پر مشتمل تھا ، اب ایک مکمل انسان ہے۔ اس کے بعد پھر

ومنکم من یتوفی ومنکم من یرنہ الی ار ذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” اور تم میں سے کوئی پہلے بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ “ جو بلا لیا جاتا ہے یعنی جلدی مر جاتا ہے تو وہ اپنے اس انجام تک جا پہنچتا ہے جو ہر زندہ کا آخری انجام ہے۔ کسی کو نہایت ہی بدترین عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو یہ ہمارے لئے قابل غور فکر ہے کہ علم اور دانش مندی اور فہم و فراست اور کمال کے بعد وہ پھر ایک بچہ بن جاتا ہے۔ اس کے جذبات ، تاثرات اور حافظہ بچوں کی طرح ہوتا ہے ، وہ کوئی چیز ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتا۔ حافظہ ختم ہوجاتا ہے ، اسے کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ یوں بھی بچہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حادثہ کو ایک اکیلا واقعہ سمجھتا اور دیکھتا ہے۔ دو واقعات کے درمیان کوئی ربط نہیں دیکھ سکتا۔ پھر وہ ہر بات کے بارے میں بار بار پوچھتا رہتا ہے ۔ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ جب آخری واقعہ دیکھتا ہے اس کی ابتدائی کڑیاں وہ بھول چکا ہوتا ہے۔

لکیلا یعلم من بعد علم شیئاً (22 : 5) ” تاکہ اسے جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی گرفت سے وہ علوم بھی نکل جائیں جن کا وہ بہت ہی ماہر فن تھا اور کسی وقت تو وہ اللہ کی ذات وصفات میں بھی بحث کرتا تھا۔

اس کے بعد انسانوں کی تخلیق اور ان کی تربیت سے ذرا آگے بڑھ کر زمین کے اندر حیوانوں اور نباتات کے تخلیقی عمل پر بحث کی جاتی ہے۔

وتری الارض ھامدۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت و انبتت من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ “

ہمود موت وحیات کے درمیان ایک درجہ ہے۔ زمین بارش یا پانی ملنے سے قبل حالت ہمود میں ہوتی ہے۔ پانی حیوانات اور نباتات میں ایک بڑا عنصر ہے ، جب وہ نازل ہوتا ہے تو یہ زمین اھتزت و ربت (22 : 5) حرکت کرتی ہے۔ یہ عجیب حرکت ہے جسے قرآن نے قلم بند کردیا ہے۔ قبل اس کے کہ سائنسی آلات کے ذریعہ اس کا ملاحظہ کیا جائے ۔ جب خشک زمین کو پانی ملے تو یہ حرکت کرتی ہے ، ہلتی ہے ، پانی پیتی ہے ، پھول جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں سے نباتات پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ من کل زوج بھیج (22 : 5) ” اس نے ہر قسم کے خوش منظر نباتات کے جوڑے اگلنا شروع کئے۔ “ اس سے زیادہ اور کوئی سین خوش منظر نہیں ہوتا کہ زمین جمود اور مردہ حالت سے ایک بار پھر زندگی بھرپور ہوجائے اور لہلہانے لگے۔

قرآن مجید تمام زندہ چیزوں ، انسان ، حیوانات اور نباتات کے درمیان ایک ہی آیت میں ایک ربط پیدا کردیتا ہے۔ وہ لوگوں کے فکر و نظر کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان چیزوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے اور وہ کیا ہے ؟ یہ قرابت اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کا حقیقی سبب ایک ہے ، وہ ایک ارادہ جو اسے جگہ جگہ نمودار کرتا ہے۔ زمین نباتات اور حیوانات اور انسان سب کے بارے میں یہ آیت :