وَّاَنَّ
السَّاعَةَ
اٰتِیَةٌ
لَّا
رَیْبَ
فِیْهَا ۙ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
یَبْعَثُ
مَنْ
فِی
الْقُبُوْرِ
۟
3

ذلک بان اللہ ھو ……فی القبور (7)

یہ بات یعنی انسان کو مٹی سے پیدا کرنا ، پھر جنین کو مذکورہ بالا مختلف مراحل سے گزارنا ، پھر بچے کا مختلف مراحل حیات طے کرنا ، پھر خشک اور مردہ زمین کو بارش کے بعد زندہ کرنا ، ان سب امور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ حق ہے۔ اس لئے کہ ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ خلاق کائنات نے جو قانون قدرت اس دنیا کے لئے وضع کیا ہے ، وہ حق ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور زندگی کا یوں ترتیب کے ساتھ مرحلہ وار ترقی کرتے چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک واحد خالق اور مدبر کا ارادہ اس کائنات میں کام کر رہا ہے۔ یعنی زندگی اور اس پوری کائنات کے اندر جاری وساری قوانین فطرت میں اور اللہ کی سچائی میں گہرا ربط ہے۔

انہ یحی الموتی (22 : 6) ” اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ “ مردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی جس طرح پہلے اس نے زمین سے انسان کو پیدا کیا اسی طرح دوبارہ اسی مٹی کو زندگی دینا اس کے لئے مشکل نہیں ہے۔

وان اللہ یبعث من فی القبور (22 : 8) ” اور یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ “ تاکہ وہ اس انجام تک پہنچیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کی حکمت تدبیر اور حکمت تخلیق کا تقاضا یہ ہے کہ مردوں کو اٹھایا جائے۔

یہ مختلف مراحل جن سے جنین گزرتا ہے ، پھر جن سے ایک بچہ گزرتا ہے ، جب وہ آنکھ کھولتا ہے یہ تمام مراحل یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جو ارادہ مدبرہ یہ سب کام کرتا ہے وہ اس انسان کو موجودہ حالت سے نکال کر لازماً دارالکمال تک پہنچائے گا۔ حیات ارضی میں انسان کمال تک نہیں پہنچتا کیونکہ وہ ایک مقام تک پہنچ کر کھڑا ہوجاتا ہے اور پھر وہ زوال کی طرف آتا ہے۔

لکیلا یعلم بعد علم شیئاً ” تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ “ اس کی روشنی میں ایک اور جہاں اور ایک جنم انسان کے لئے ضروری ہے جس میں وہ کمال حاصل کرے۔

تخلیق انسان اور حیوانات و نباتات اور ان کے یہ مدارج اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کو پیدا کرنے الا ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسرے یہ کہ عملاً ان کو اٹھا کر دوسرے جہاں تک لے جائے گا تاکہ وہ وہاں درجہ کمال تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح تخلیق کا اصول اور بعث بعد الموت کا ضابطہ باہم مل جاتے ہیں اور پھر آخرت میں حساب و کتاب بھی ان کا ایک طبیعی انجام قرار پاتا ہے اور ان تمام امور سے خالق مدبر کا ثبوت بھی ملتا ہے جس کا ہاتھ ان تمام امور میں کام کرتا ہے۔

ان بیشمار دلائل کے باوجود بعض لوگ پھر بھی اللہ کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔