Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 42:47 hingga 42:48
اِسْتَجِیْبُوْا
لِرَبِّكُمْ
مِّنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّاْتِیَ
یَوْمٌ
لَّا
مَرَدَّ
لَهٗ
مِنَ
اللّٰهِ ؕ
مَا
لَكُمْ
مِّنْ
مَّلْجَاٍ
یَّوْمَىِٕذٍ
وَّمَا
لَكُمْ
مِّنْ
نَّكِیْرٍ
۟
فَاِنْ
اَعْرَضُوْا
فَمَاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
عَلَیْهِمْ
حَفِیْظًا ؕ
اِنْ
عَلَیْكَ
اِلَّا
الْبَلٰغُ ؕ
وَاِنَّاۤ
اِذَاۤ
اَذَقْنَا
الْاِنْسَانَ
مِنَّا
رَحْمَةً
فَرِحَ
بِهَا ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
فَاِنَّ
الْاِنْسَانَ
كَفُوْرٌ
۟
3

موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔

يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔