Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 42:51 hingga 42:53
وَمَا
كَانَ
لِبَشَرٍ
اَنْ
یُّكَلِّمَهُ
اللّٰهُ
اِلَّا
وَحْیًا
اَوْ
مِنْ
وَّرَآئِ
حِجَابٍ
اَوْ
یُرْسِلَ
رَسُوْلًا
فَیُوْحِیَ
بِاِذْنِهٖ
مَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
عَلِیٌّ
حَكِیْمٌ
۟
وَكَذٰلِكَ
اَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْكَ
رُوْحًا
مِّنْ
اَمْرِنَا ؕ
مَا
كُنْتَ
تَدْرِیْ
مَا
الْكِتٰبُ
وَلَا
الْاِیْمَانُ
وَلٰكِنْ
جَعَلْنٰهُ
نُوْرًا
نَّهْدِیْ
بِهٖ
مَنْ
نَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِنَا ؕ
وَاِنَّكَ
لَتَهْدِیْۤ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟ۙ
صِرَاطِ
اللّٰهِ
الَّذِیْ
لَهٗ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَا
فِی
الْاَرْضِ ؕ
اَلَاۤ
اِلَی
اللّٰهِ
تَصِیْرُ
الْاُمُوْرُ
۟۠
3

اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔

وخر موسیٰ صعقاً ۔۔۔۔۔ اول المومنین (7 : 143) “ اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا : پاک ہے تیری ذات میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والوں میں سے ہوں ”۔ یا پھر یہ طریقہ ہے کہ ایک پیغام لانے والا بھیج دے اور یہ فرشتہ ہوتا ہے جو اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کر دے۔ اور اس کی تفصیلات حضور اکرم ﷺ نے خود بتا دی ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ فرشتہ آپ کے دل میں بات ڈال دے ماسوائے اس کے کہ آپ فرشتے کو دیکھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا “ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہ مرے گا قبل اس کے کہ وہ اپنا رزق مکمل نہ کردے ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور نہایت ہی خوبصورت طریقے سے رزق کی تلاش کرو ”۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ ایک انسان کی شکل میں آپ سے بات کرتا اور آپ اس کی بات کو سمجھ لیتے۔ تیسری صورت یہ کہ وحی آپ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی اور یہ طریقہ آپ کے لئے بہت سخت ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ کے ماتھے سے پسینہ ٹپکتا اور ایسی حالت میں اگر آپ سواری پر ہوتے تو اس پر اس قدر بوجھ ہوتا کہ سواری بیٹھ جاتی۔ آپ پر ایک بار ایسی حالت میں وحی آئی اور آپ کا سر مبارک زید ابن ثابت کی ران پر تھا۔ اس پر یہ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے ان کی ران چورہ چورہ ہوجاتی۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ آپ فرشتے کو ایسی شکل میں دیکھتے جس میں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس وقت وہ جو چاہتا ، وحی کرد یتا۔ اور اس شکل میں فرشتہ صرف دوبارآیا ہے۔ جیسا کہ سورت نجم میں ذکر ہوا ( زاد العماد ، ابن قیم الجوزیہ)

یہ ہیں وحی کی صورتیں ، اور ان کے مطابق اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا رابطہ ہوتا رہا ہے۔

انہ علی حکیم (42 : 51) “ اللہ برتر اور حکیم ہے ”۔ وہ اپنی بلندیوں سے وحی کرتا ہے اور وہ اپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے ، چن لیتا ہے۔

میں یہاں ضرور کہوں گا کہ جب بھی میں نے کسی ایسی آیت یا حدیث پر غور کیا ہے جس میں بندے اور رب کے درمیان رابطے کا ذکر ہو ، تو میرا رواں رواں کانپ اٹھا ہے کہ ایک ازلی ابدی ذات جو لازمان اور لامکان ہے ، جس کو کسی جگہ میں محدود نہیں کیا جاسکتا ، جس کی مثل کائنات میں کوئی چیز نہیں ہے اور فانی بندے کے درمیان اتصال کس طرح واقع ہو سکتا ہے جبکہ انسان ایک جگہ میں محدود ہے ، ایک زمان تک محدود ہے۔ اور مخلوقات کی دوسری حدود کا پابند ہے۔ پھر یہ رابطہ معانی اور کلمات کی شکل کس طرح اختیار کرتا ہے اور ایک فانی محدود ذات کے اندر یہ قوت کس طرح ودیعت کردی جاتی ہے کہ وہ ازلی و ابدی اور لامکان ذات کا کلام پا سکے۔ جس کی کوئی مثال نہیں ہے ، یہ کس طرح ممکن ہوا ۔ کیونکر ہوا ؟

لیکن میں نے پھر لوٹ کر اپنے آپ سے پوچھا تم کیف سے سوال کرتے ہو ؟ لیکن خود تمہارا یہ کیف بھی محدود ، فانی ، قاصر اور ایک حدود کے اندر ہے۔ لیکن یہ حقیقت تو واقع ہوچکی ہے ۔ اور اس نے ایک شکل بھی اختیار کرلی۔ اس کا ایک وجود ہمارے سامنے آگیا ہے اور تم اسے پا رہے ہو۔

لیکن اس کے باوجود یہ اچنبھا ، یہ گھبراہٹ اور یہ خوف موجود ہے۔ یہ نبوت تو بہت ہی عظیم امر ہے۔ اور اس پیغام کے وصول کرنے کا وقت تو بہت ہی عظیم ہے۔ ایک انسانی ذات ایک ذات عالی مقام کا پیغام وصول کرتی ہے۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھتے ہو کیا تم میرے اس تصور میں میرے ساتھ شریک ہو ؟ کیا تم میرے ساتھ اس امر عظیم کو سوچ رہے ہو ؟ کہ یہ وحی وہاں سے آرہی ہے۔ نہیں میں کہتا ہوں کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ “ وہاں ” سے اس دربار عالی میں تو “ یہاں ” اور “ وہاں ” نہیں ہے۔ یہ نزول تو غیر مکان اور لازمان سے واقع ہے۔ یہ تو جگہ مکان اور حدود سے پاک ہے۔ جہت اور طرف تو اس بارگاہ میں نہیں۔ انتہائی مطلق ، ازلی ابدی ذات ہے ، اللہ ذوالجلال ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے ، نبی ہے ، رسول ہے لیکن انسان ہے۔ وہ حدود وقیود رکھتا ہے۔ یہ وحی ! یہ ایک عجیب رابطہ ہے۔ معجزانہ رابطہ ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اسے ایک حقیقت واقعہ بنا سکتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ یہ واقعہ کیسے متحقق ہوا۔ بھائی ! تم یہ کلمات پڑھ رہے ہو کیا تم ان خیالات کو پا رہے ہو جو میرے دل میں آتے ہیں اور میں انہیں کلمات کی شکل دے رہا ہوں ۔ میرا پورا وجود جس قدر رعب ، کپکپی محسوس کرتا ہے اور میں اسے کلمات میں منتقل کر رہا ہوں ، میں نہیں جانتا کہ اس کے لئے میں کیسے کلمات لا سکتا ہوں۔ یہ واقعہ تو اپنی ماہیت کے اعتبار سے بہت ہی عظیم عجیب اور خارق عادت ہے۔ جن صورتوں میں بار بار واقعہ ہوا۔ لوگوں نے اسے محسوس کیا اور بارہا اس کے مناظر بھی دیکھے ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں آپ کے ساتھیوں نے۔ حضرت عائشہ ؓ انسانی تاریخ کے اس عظیم واقعہ کو دیکھ رہی ہیں۔ اور روایت کر رہی ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے عائشہ ! یہ ہیں جبرئیل ، تم پر سلام کہتے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں وعلیہ السلام۔ آپ فرماتے ہیں وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ ہیں زید ابن ثابت ؓ ۔ اس وقت حضور ﷺ کا سرمبارک ان کی ران پر ہے۔ وحی آتی ہے ، قریب ہے کہ ان کی ران کو پیس ڈالے۔ اور یہ دوسرے صحابہ کرام بار ہا اس واقعہ کر دیکھتے ہیں ، اور پہچان جاتے ہیں آپ کے چہرۂ مبارک پر آثار وحی۔ آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وحی کی تلقی کا عمل پورا ہوجائے۔ آپ بھی واپس آتے ہیں اور وہ بھی واپس آتے ہیں۔

یہ کیا شخصیت ہے رسول خدا ﷺ کی جو ذات علوی کے ساتھ یہ رابطہ رکھتے ہیں ؟ آپ کو جو ہر کیا ہے ؟ آپ کی روح کیسی ہے کہ ایک ابدی کے ساتھ ازلی کے ساتھ آپ رابطہ ہوجاتا ہے۔ یہ اختلاط کیسے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ہیں لیکن یہ حقیقت ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ واقعات ہمارے ادراک کے آفاق سے بہت دور ہیں ، بہت بلند ہیں۔

ہمارے نبی کی روح کی ایک انسانی روح ہے۔ یہ انسانی اور فانی روح کس طرح وحی اخذ کرتی ہے۔ تلقی اور ادراک کے دروازے کس طرح کھل جاتے تھے ؟ کس طرح ان پر یہ فیضان ہوتا تھا۔ ان عجیب لمحات میں وجود رسول اور وجود کائنات کس طرح محسوس کرتا تھا۔ جس میں اللہ کی تجلیات آتی تھیں۔ اور یہ تجلیات کلمات کی شکل اختیار کرتی تھیں۔

پھر اللہ کی نگہبانیاں ، اللہ کی مہربانیاں اور اللہ کی عزت افزائیاں تو دیکھو ! اللہ بہت ہی بلند ، بہت ہی بڑا اور وہ اس نہایت ہی چھوٹی ، کمزور اور بےبس مخلوق پر رحمتیں نازل کرتا ہے۔ یہ وحی اس کی اصلاح کے لئے ہے۔ اس کی راہ روشن کرنے کے لئے ہے۔ ان میں سے جو بےراہ ہوگئے۔ حیران ہیں ان کی راہنمائی کے لئے۔ انسان جو اللہ کے لئے اس سے بھی کم قیمت ہے جس طرح انسانوں کے لئے ایک مچھر۔ وہ اللہ کی مملکت میں اسی طرح ہے جس طرح پوری زمین کے مقابلے میں ایک مچھر۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے لیکن یہ انسان کی قوت مدرکہ کے تصورات بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ ہم صرف اللہ کی اس افق عالی کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔

وکذلک اوحینا الیک ۔۔۔۔۔ الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ الذی ۔۔۔۔۔ تصیر الامور (42 : 53) “ اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ، مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا ً تم سیدھے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کی مالک ہے ۔ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔

وکذلک (اسی طرح) اس عجیب رابطے کے ذریعے اوحینا الیک (42 : 52) “ ہم نے تمہاری طرف وحی کی ” ۔ گویا وحی مذکور طریقے سے ہوئی۔ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اور روحا من امرنا ( 42 : 52) “ اپنے حکم سے ایک روح ” ۔ ہم نے تمہاری طرف وحی کی۔ یہ ایک روح ہے ، اس میں زندگی ہے ۔ یہ انسانوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔ یہ انسانوں کو آگے بڑھاتی ہے ، حرکت دیتی ہے اور نشوونما عطا کرتی ہے ، دلوں کو زندہ کرتی ہے اور عملی زاویہ سے لوگوں کو زندہ کرتی ہے۔

ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ( 42 : 52) “ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ”۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی ذہنی کیفیت کی تصویر اللہ کھینچتا ہے۔ اور اللہ آپ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے۔ یہ اس وحی کے نزول و وصول سے پہلے کی بات ہے۔ اس نزول وحی سے قبل حضور ﷺ نے کتابوں کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا۔ اور ایمان کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا ۔ اور جزیرۃ العرب میں یہ بات مشہور تھی کہ وہاں اہل کتاب ہیں اور ان کے پاس کتاب الٰہی ہے ، اور ان کا یہ عقیدہ ہے۔ لہٰذا مراد یہ نہیں ہے کہ آپ نہ کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے اندر وحی کتاب اور ایمان کا وہ شعور نہ پاتے تھے۔ وحی الٰہی سے قبل آپ کے شعور میں یہ باتیں نہ تھیں جو وحی کے ذریعہ اب آپ لوگوں کو بتا تے ہیں۔

ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاء (42 : 52) “ مگر اس کو ہم نے روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں ”۔ یہ ہے اس وحی کی ماہیت اور اس کی ذاتی خصوصیت۔ یہ روح ، یہ وحی ، یہ کتاب دراصل ایک نور ہے ۔ یہ نور جب قلب کا حصہ بن جاتا ہے تو پھر رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن یہ نور اسی شخص کے دل میں داخل ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے دل میں راہ پا سکتا ہے۔ اور یہ شخص اس کی طرف مائل ہے۔

وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تاکید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پرو گرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیت کام کرتی ہے۔

وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو ”۔ یہاں تا کید کے ساتھ وحی کی رہنمائی کی حیثیت کو واضح کیا جاتا ہے کہ یہ ایک عملی رہنمائی کا پروگرام ہے۔ اور ہدایت بھی اسی کو ملتی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اللہ کی مشیت ہو۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ جس کے مقدر میں چاہے ، لکھ دے ۔ اور اللہ ہر مقدر اپنے پیشگی علم کی وجہ سے تحریر کرتا ہے۔ یہ علم صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ رسول کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا۔ رسول تو حکم الٰہی سے تبلیغ پر مامور ہے۔ وہ کسی کے دل میں ہدایت نہیں ڈال سکتا۔ آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی مشیئت کام کرتی ہے۔

وانک لتھدی الی صراط مستقیم (42 : 52) صراط اللہ ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (42 : 53) “ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ، اس خدا کے راستے کی طرف جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ”۔ یہ وحی ہدایت ہے اللہ کے راستے کی طرف۔ جہاں تمام راستے آ کر ملتے ہیں اور یہ مالک کا راستہ ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے جو اس راتے پر آگیا۔ اسے اس کائنات کے قوانین فطرت کی راہ بھی معلوم ہوگئی۔ اسے زمین و آسمان کی قوتوں کا پتہ بھی چل گیا ، اسے آسمانوں اور زمینوں کی ارزاق کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زمین و آسمان سب اللہ کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اللہ ہی ان کا مالک ہے ، یہ سب اس کی طرف متوجہ ہیں اور تمام امور اسی کی طرف مڑتے ہیں۔

الا الی اللہ تصیر الامور (42 : 53) “ خبردار رہو ، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ”۔ سب چیزیں اللہ پر جا کر منتہی ہوتی ہیں ، وہاں سب امور جمع ہوں گے اور ان کے فیصلے ہوں گے۔ اور یہ نور اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اللہ نے بندوں کے لئے پسند کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جڑنے کے لئے اس کی طرف آئیں اور اس کے نشانات پر مطیع فرمان ہو کر چلیں۔

یوں اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ اس کا آغاز وحی پر بات سے ہوا ، اس کا آخری مضمون اور محور وحی تھا۔ ابتدائی نبوتوں سے لے کر اس نے تمام نبوتوں کو لیا اور بتایا کہ یہ ایک ہی سلسلہ ہے۔ ایک ہی نظام اور منہاج کی طرف دعوت ہے ، راستہ بھی ایک ہے ، طریقہ بھی ایک ہے۔ محمد ﷺ کی رسالت نے تمام انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے اور اس کی قیادت جماعت مومنہ نے کرنی ہے۔ اس نے لوگوں کو راہ راست پر لانا ہے۔ یہ اس ذات کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ۔ پھر اس سورت نے اس ابتدائی جماعت کی خصوصیات بھی بتا دیں جو حضور ﷺ پر ایمان لائی اور جس نے بھی یہ کام کرنا ہو ، اس کے اندر یہ خصوصیات لازمی ہیں۔ ان خصوصیات کے بغیر نہ قیادت ممکن ہے اور نہ اس امانت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ یہ امانت جو اس منہاج کے مطابق آسمانوں سے زمین پر اتاری گئی۔