وَجَعَلُوْا
لَهٗ
مِنْ
عِبَادِهٖ
جُزْءًا ؕ
اِنَّ
الْاِنْسَانَ
لَكَفُوْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟ؕ۠
3

آیت 15{ وَجَعَلُوْا لَـہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا } ”اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا ایک ُ جزوٹھہرایا۔“ یعنی اس کے بعض بندوں کو اس کی اولاد قرار دے دیا۔ انسان کی اولاد دراصل اس کا جزو ہی ہوتا ہے۔ باپ کے جسم سے ایک سیل spermatozone نکل کر ماں کے جسم کے سیل ovum سے ملتا ہے اور ان دو cells کے ملاپ سے بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔ -۔ - cells ماں اور باپ کے اپنے اپنے جسموں کے جزوہی ہوتے ہیں۔ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ } ”یقینا انسان بہت کھلا نا شکرا ہے۔“