Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 6:74 hingga 6:79
وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهِیْمُ
لِاَبِیْهِ
اٰزَرَ
اَتَتَّخِذُ
اَصْنَامًا
اٰلِهَةً ۚ
اِنِّیْۤ
اَرٰىكَ
وَقَوْمَكَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
وَكَذٰلِكَ
نُرِیْۤ
اِبْرٰهِیْمَ
مَلَكُوْتَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَلِیَكُوْنَ
مِنَ
الْمُوْقِنِیْنَ
۟
فَلَمَّا
جَنَّ
عَلَیْهِ
الَّیْلُ
رَاٰ
كَوْكَبًا ۚ
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَ
قَالَ
لَاۤ
اُحِبُّ
الْاٰفِلِیْنَ
۟
فَلَمَّا
رَاَ
الْقَمَرَ
بَازِغًا
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَ
قَالَ
لَىِٕنْ
لَّمْ
یَهْدِنِیْ
رَبِّیْ
لَاَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْقَوْمِ
الضَّآلِّیْنَ
۟
فَلَمَّا
رَاَ
الشَّمْسَ
بَازِغَةً
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ
هٰذَاۤ
اَكْبَرُ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَتْ
قَالَ
یٰقَوْمِ
اِنِّیْ
بَرِیْٓءٌ
مِّمَّا
تُشْرِكُوْنَ
۟
اِنِّیْ
وَجَّهْتُ
وَجْهِیَ
لِلَّذِیْ
فَطَرَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
حَنِیْفًا
وَّمَاۤ
اَنَا
مِنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
۟ۚ
3

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔

رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔

کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔