Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 6:77 hingga 6:79
فَلَمَّا
رَاَ
الْقَمَرَ
بَازِغًا
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَ
قَالَ
لَىِٕنْ
لَّمْ
یَهْدِنِیْ
رَبِّیْ
لَاَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْقَوْمِ
الضَّآلِّیْنَ
۟
فَلَمَّا
رَاَ
الشَّمْسَ
بَازِغَةً
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ
هٰذَاۤ
اَكْبَرُ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَتْ
قَالَ
یٰقَوْمِ
اِنِّیْ
بَرِیْٓءٌ
مِّمَّا
تُشْرِكُوْنَ
۟
اِنِّیْ
وَجَّهْتُ
وَجْهِیَ
لِلَّذِیْ
فَطَرَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
حَنِیْفًا
وَّمَاۤ
اَنَا
مِنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
۟ۚ
3

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔