Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 6:80 hingga 6:81
وَحَآجَّهٗ
قَوْمُهٗ ؕ
قَالَ
اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ
فِی
اللّٰهِ
وَقَدْ
هَدٰىنِ ؕ
وَلَاۤ
اَخَافُ
مَا
تُشْرِكُوْنَ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
رَبِّیْ
شَیْـًٔا ؕ
وَسِعَ
رَبِّیْ
كُلَّ
شَیْءٍ
عِلْمًا ؕ
اَفَلَا
تَتَذَكَّرُوْنَ
۟
وَكَیْفَ
اَخَافُ
مَاۤ
اَشْرَكْتُمْ
وَلَا
تَخَافُوْنَ
اَنَّكُمْ
اَشْرَكْتُمْ
بِاللّٰهِ
مَا
لَمْ
یُنَزِّلْ
بِهٖ
عَلَیْكُمْ
سُلْطٰنًا ؕ
فَاَیُّ
الْفَرِیْقَیْنِ
اَحَقُّ
بِالْاَمْنِ ۚ
اِنْ
كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟ۘ
3

(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔

جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔

لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔

(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)

” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔

(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)

” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “

وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔

(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔

(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)

ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “

یہ اس شخص کا استدلال ہے جس نے اس دنیا کے حقائق کا ادراک کرلیا ہے ۔ اگر کوئی ڈرتا ہے تو ڈرے ‘ ابراہیم نہیں ڈرتا ‘ کیونکہ ابراہیم تو وہ مومن ہے جس نے اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اپنے راستے پر چل رہا ہے ۔ پھر وہ موجودہ عاجز و لاچار الہوں سے کیوں ڈرے ‘ چاہے وہ کسی بھی قسم کے ہوں ؟ اس لئے کہ الہ قہار وجبار حکمرانوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی ۔ وہاں یہ بھی عاجز ہوتے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحد ایسے ضعیف اور جھوٹے خداؤں سے کس طرح ڈر سکتے ہیں حالانکہ ڈرنا مشرکیں کو چاہئے کہ انہوں نے بغیر ثبوت وبرہان کے اللہ کے ساتھ ان ضعیف خداؤں کو شریک بنا لیا ہے اور یہ اس قدر ضعیف ہیں کہ ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہے ۔ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق زیادہ مامون اور بےخوف ہے ؟ اللہ پر ایمان رکھنے والا یا ان ضعیف بتوں کو الہ ماننے والا جن کو وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہے اور آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ ان کو کوئی اقتدار اور قوت حاصل نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ ان کے پاس فہم وادراک کی کوئی بصیرت نہیں ہے اس سوال کے جواب میں وحی آتی ہے اور اس قضیے کا فیصلہ یوں ہوتا ہے ۔