Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 6:80 hingga 6:83
وَحَآجَّهٗ
قَوْمُهٗ ؕ
قَالَ
اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ
فِی
اللّٰهِ
وَقَدْ
هَدٰىنِ ؕ
وَلَاۤ
اَخَافُ
مَا
تُشْرِكُوْنَ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
رَبِّیْ
شَیْـًٔا ؕ
وَسِعَ
رَبِّیْ
كُلَّ
شَیْءٍ
عِلْمًا ؕ
اَفَلَا
تَتَذَكَّرُوْنَ
۟
وَكَیْفَ
اَخَافُ
مَاۤ
اَشْرَكْتُمْ
وَلَا
تَخَافُوْنَ
اَنَّكُمْ
اَشْرَكْتُمْ
بِاللّٰهِ
مَا
لَمْ
یُنَزِّلْ
بِهٖ
عَلَیْكُمْ
سُلْطٰنًا ؕ
فَاَیُّ
الْفَرِیْقَیْنِ
اَحَقُّ
بِالْاَمْنِ ۚ
اِنْ
كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟ۘ
اَلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَلَمْ
یَلْبِسُوْۤا
اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ
اُولٰٓىِٕكَ
لَهُمُ
الْاَمْنُ
وَهُمْ
مُّهْتَدُوْنَ
۟۠
وَتِلْكَ
حُجَّتُنَاۤ
اٰتَیْنٰهَاۤ
اِبْرٰهِیْمَ
عَلٰی
قَوْمِهٖ ؕ
نَرْفَعُ
دَرَجٰتٍ
مَّنْ
نَّشَآءُ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
حَكِیْمٌ
عَلِیْمٌ
۟
3

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔

اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔