Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 6:95 hingga 6:97
اِنَّ
اللّٰهَ
فَالِقُ
الْحَبِّ
وَالنَّوٰی ؕ
یُخْرِجُ
الْحَیَّ
مِنَ
الْمَیِّتِ
وَمُخْرِجُ
الْمَیِّتِ
مِنَ
الْحَیِّ ؕ
ذٰلِكُمُ
اللّٰهُ
فَاَنّٰی
تُؤْفَكُوْنَ
۟
فَالِقُ
الْاِصْبَاحِ ۚ
وَجَعَلَ
الَّیْلَ
سَكَنًا
وَّالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ
حُسْبَانًا ؕ
ذٰلِكَ
تَقْدِیْرُ
الْعَزِیْزِ
الْعَلِیْمِ
۟
وَهُوَ
الَّذِیْ
جَعَلَ
لَكُمُ
النُّجُوْمَ
لِتَهْتَدُوْا
بِهَا
فِیْ
ظُلُمٰتِ
الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ ؕ
قَدْ
فَصَّلْنَا
الْاٰیٰتِ
لِقَوْمٍ
یَّعْلَمُوْنَ
۟
3

انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔

سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔

خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔

خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔