Anda sedang membaca tafsir untuk sekelompok ayat dari 80:33 hingga 80:42
فَاِذَا
جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ
۟ؗ
یَوْمَ
یَفِرُّ
الْمَرْءُ
مِنْ
اَخِیْهِ
۟ۙ
وَاُمِّهٖ
وَاَبِیْهِ
۟ۙ
وَصَاحِبَتِهٖ
وَبَنِیْهِ
۟ؕ
لِكُلِّ
امْرِئٍ
مِّنْهُمْ
یَوْمَىِٕذٍ
شَاْنٌ
یُّغْنِیْهِ
۟ؕ
وُجُوْهٌ
یَّوْمَىِٕذٍ
مُّسْفِرَةٌ
۟ۙ
ضَاحِكَةٌ
مُّسْتَبْشِرَةٌ
۟ۚ
وَوُجُوْهٌ
یَّوْمَىِٕذٍ
عَلَیْهَا
غَبَرَةٌ
۟ۙ
تَرْهَقُهَا
قَتَرَةٌ
۟ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْكَفَرَةُ
الْفَجَرَةُ
۟۠
3

ننگے پاؤں، ننگے بدن۔۔ پسینے کا لباس حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صاختہ قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شور و غل کانوں کے پردے پھاڑ دیگا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئیگا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بیشک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا، صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ نفسی نفسی یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپ ﷺ ادھاپی میں لگا ہوگا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بےختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے آپ ﷺ کی بیوی صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی فرمایا اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہوگا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں ؟ (ابن ابی حاتم) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی لکل امری الخ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ ؓ عہما تھیں اور روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا پوچھا حضور ﷺ لوگوں کا حشر کس طرح ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا ننگے پیروں اور ننگے بدن تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی ؟ فرمایا ہاں۔ یہ سن کر ام المومنین افسوس کرنے لگیں آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں ؟ پوچھا حضور ﷺ وہ آیت کونسی ہے فرمایا لکل امری الخ، ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ نے پوچھا یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بےختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرض ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھ سنائی، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے دل خوشی سے مطمئن ہوں گے منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جتنی جماعت ہے دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہوگا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے گرد آلود ہوں گے، حدیث میں ہے کہ ان کا پسینہ مثل لگا کے ہو رہا ہوگا پھر گرد و غبار پڑا ہوا ہوگا جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعما میں بدکاری تھی جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 27؀) 71۔ نوح :27) یعنی ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی۔ سورة عبس کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد اللہ !